ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ویاپم کے نام سے ڈرتے ہیں لوگ، اس کا نام تبدیل کرنا چاہیے، کمل ناتھ کے وزیرپی سی شرماکاطنز 

ویاپم کے نام سے ڈرتے ہیں لوگ، اس کا نام تبدیل کرنا چاہیے، کمل ناتھ کے وزیرپی سی شرماکاطنز 

Tue, 15 Jan 2019 02:13:52    S.O. News Service

بھوپال:14/ جنوری (ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا)مدھیہ پردیش کے وزیرپی سی شرما نے پیر کو کہا کہ لوگ ویاپم کے نام سے ڈرتے ہیں، اس لئے اس کی جگہ نیا نام وضع کرنا چاہیے۔شرما نے کہا کہ ویاپم ایک ایسا نام ہو گیا ہے، جو بدعنوانی کے لیے مترادف لفظ بن گیا ہے ۔ نام تبدیل کرنے کا قدم سابقہ حکومت نے اٹھایا تھا۔ اس وجہ سے کوئی ایسا نام وضع کیا جانا چاہیے، جس سے لوگوں کو ڈر نہیں لگے۔ اب لوگ و یاپم کے نام سے ڈرتے ہیں۔بی جے پی کی شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت کے دوران ویاپم کا نام بدل کر پروفیشن ایگژامنیش بورڈ کی کوشش ہوئی تھی۔ اب ایک بار پھر ویاپم کے نام پر بحث شروع ہو گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ریاست میں ویاپم کے ذریعے تیسرے اور چوتھے درجے کے ملازمین کی بھرتی کے لیے امتحانات منعقد کیے جاتے رہے ہیں ۔ویاپم میں ہیرا پھیری کا بڑا انکشاف سات جولائی، 2013 کو پہلی باراس وقت ہوا، جب ایک گروہ اندور کی کرائم برانچ کی گرفت میں آیا۔ یہ گروہ امتحان میں فرضی امیدواروں کو بٹھانے کا کام کرتا تھا۔ ا س وقت کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے اس معاملے کو اگست 2013 میں ایس ٹی ایف کے حوالے کر دیا۔ہائی کورٹ جبل پور نے معاملے کا نوٹس لیا اور اس نے ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج، جسٹس چندریش بھوشن کی صدارت میں اپریل 2014 میں ایس آئی ٹی قائم کی، جس کی نگرانی میں ایس ٹی ایف کی انکوائری کرتا رہا۔ نو جولائی، 2015 کو کیس سی بی آئی کو سونپنے کا فیصلہ ہوا اور 15 جولائی سے سی بی آئی نے تحقیقات شروع کی ۔ واضح ہو کہ اس معاملے سے منسلک 50 افراد کی جان بھی جا چکی ہے اور مزید 2000 سے زیادہ لوگوں کو جیل جانا پڑا ہے، علاوہ ازیں 400 سے زیادہ لوگ اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ 


Share: